Type Here to Get Search Results !

Anwar Masood Poetry, Ghazals

 

Introduction:

 Hello Dears Welcome to my Website. In future you find every type of Urdu Poetry in Here. Our website aim is that Provide you Every information about Urdu Language So to become successful Our Aim Before the Urdu Poetry We provide you Basic Information and Facts about Urdu.After these Information You can Find our Poetry Collection.I hope You All the Peoples Like My Poetry Collection. Urdu is the language of love .So Fell the Poetry and engoy With Me. For any type of Doubt Comment.In future if you Peoples Support me Them I  Provide live Chat option To Chat me Live.Any type of Doubt About and if you want Give me Suggestions About which type of Poetry do you want so comment me.   

_______________________________________________________________________ 

 

Anwar Masood

جس طرح کی ہیں یہ دیواریں یہ در جیسا بھی ہے

  
 Poet: Anwar masood By: Zain Sardar

جس طرح کی ہیں یہ دیواریں یہ در جیسا بھی ہے
سر چھپانے کو میسر تو ہے گھر جیسا بھی ہے

اس کو مجھ سے مجھ کو اس سے نسبتیں ہیں بے شمار
میری چاہت کا ہے محور یہ نگر جیسا بھی ہے

چل پڑا ہوں شوق بے پروا کو مرشد مان کر
راستہ پر پیچ ہے یا پر خطر جیسا بھی ہے

سب گوارا ہے تھکن ساری دکھن ساری چبھن
ایک خوشبو کے لئے ہے یہ سفر جیسا بھی ہے

وہ تو ہے مخصوص اک تیری محبت کے لئے
تیرا انورؔ با ہنر یا بے ہنر جیسا بھی ہے

 

_______________________________________________________________________

 


کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگ

 

 

 Poet: Anwar masood By: Zain Sardar

 

کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا
کیا جب آنکھیں نہ رہیں گی تو اجالا ہوگا

مشغلہ اس نے عجب سونپ دیا ہے یارو
عمر بھر سوچتے رہیے کہ وہ کیسا ہوگا

جانے کس رنگ سے روٹھے گی طبیعت اس کی
جانے کس ڈھنگ سے اب اس کو منانا ہوگا

اس طرف شہر ادھر ڈوب رہا تھا سورج
کون سیلاب کے منظر پہ نہ رویا ہوگا

یہی انداز تجارت ہے تو کل کا تاجر
برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا

دیکھنا حال ذرا ریت کی دیواروں کا
جب چلی تیز ہوا ایک تماشا ہوگا

آستینوں کی چمک نے ہمیں مارا انورؔ
ہم تو خنجر کو بھی سمجھے ید بیضا ہوگا

 


_______________________________________________________________________

 

شکوۂ گردش حالات لیے پھرتا ہے

 

 

 Poet: Anwar masood By: Zain Sardar

 

شکوۂ گردش حالات لیے پھرتا ہے
جس کو دیکھو وہ یہی بات لیے پھرتا ہے

اس نے پیکر میں نہ ڈھلنے کی قسم کھائی ہے
اور مجھے شوق ملاقات لیے پھرتا ہے

شاخچہ ٹوٹ چکا کب کا شجر سے لیکن
اب بھی کچھ سوکھے ہوئے پات لیے پھرتا ہے

سوچئے جسم ہے اب روح سے کیسے روٹھے
اپنے سائے کو بھی جو سات لیے پھرتا ہے

آسماں اپنے ارادوں میں مگن ہے لیکن
آدمی اپنے خیالات لیے پھرتا ہے

پرتو مہر سے ہے چاند کی جھلمل انورؔ
اپنے کاسے میں یہ خیرات لیے پھرتا ہے

_______________________________________________________________________

 

رات آئی ہے بلاؤں سے رہائی دے گی

 

 

 Poet: Anwar masood By: Zain Sardar

 

رات آئی ہے بلاؤں سے رہائی دے گی
اب نہ دیوار نہ زنجیر دکھائی دے گی

وقت گزرا ہے پہ موسم نہیں بدلا یارو
ایسی گردش ہے زمیں خود بھی دہائی دے گی

یہ دھندلکا سا جو ہے اس کو غنیمت جانو
دیکھنا پھر کوئی صورت نہ سجھائی دے گی

دل جو ٹوٹے گا تو اک طرفہ چراغاں ہوگا
کتنے آئینوں میں وہ شکل دکھائی دے گی

ساتھ کے گھر میں ترا شور بپا ہے انورؔ
کوئی آئے گا تو دستک نہ سنائی دے گی

 

_______________________________________________________________________

 

اگلے دن کچھ ایسے ہوں گے

 

 

 Poet: Anwar masood By: Zain Sardar

 

اگلے دن کچھ ایسے ہوں گے
چھلکے پھلوں سے مہنگے ہوں گے

ننھی ننھی چیونٹیوں کے بھی
ہاتھی جیسے سائے ہوں گے

بھیڑ تو ہوگی لیکن پھر بھی
سونے سونے رستے ہوں گے

پھول کھلیں گے تنہا تنہا
جھرمٹ جھرمٹ کانٹے ہوں گے

لوگ اسے بھگوان کہیں گے
جس کی جیب میں پیسے ہوں گے

ریت جلے گی دھوپ میں انورؔ
برف پہ بادل چھائے ہوں گے

_______________________________________________________________________

 

دنیا بھی عجب قافلۂ تشنہ لباں ہے

 

 

 Poet: Anwar masood By: Zain Sardar

 

دنیا بھی عجب قافلۂ تشنہ لباں ہے
ہر شخص سرابوں کے تعاقب میں رواں ہے

تنہا تری محفل میں نہیں ہوں کہ مرے ساتھ
اک لذت پابندیٔ اظہار و بیاں ہے

حق بات پہ ہے زہر بھرے جام کی تعزیر
اے غیرت ایماں لب سقراط کہاں ہے

کھیتوں میں سماتی نہیں پھولی ہوئی سرسوں
باغوں میں ابھی تک وہی ہنگام خزاں ہے

احساس مرا ہجر گزیدہ ہے ازل سے
کیا مجھ کو اگر کوئی قریب رگ جاں ہے

جو دل کے سمندر سے ابھرتا ہے یقیں ہے
جو ذہن کے ساحل سے گزرتا ہے گماں ہے

پھولوں پہ گھٹاؤں کے تو سائے نہیں انورؔ
آوارۂ گلزار نشیمن کا دھواں ہے

_______________________________________________________________________

 

کیوں کسی اور کو دکھ درد سناؤں اپنے

 

 

 Poet: Anwar masood By: Zain Sardar

 

کیوں کسی اور کو دکھ درد سناؤں اپنے
اپنی آنکھوں سے بھی میں زخم چھپاؤں اپنے

میں تو قائم ہوں ترے غم کی بدولت ورنہ
یوں بکھر جاؤں کہ خود ہاتھ نہ آؤں اپنے

شعر لوگوں کے بہت یاد ہیں اوروں کے لیے
تو ملے تو میں تجھے شعر سناؤں اپنے

تیرے رستے کا جو کانٹا بھی میسر آئے
میں اسے شوق سے کالر پر سجاؤں اپنے

سوچتا ہوں کہ بجھا دوں میں یہ کمرے کا دیا
اپنے سائے کو بھی کیوں ساتھ جگاؤں اپنے

اس کی تلوار نے وہ چال چلی ہے اب کے
پاؤں کٹتے ہیں اگر ہاتھ بچاؤں اپنے

آخری بات مجھے یاد ہے اس کی انورؔ
جانے والے کو گلے سے نہ لگاؤں اپنے

_______________________________________________________________________

 

اس ابتدا کی سلیقے سے انتہا کرتے

 

 

 Poet: Anwar masood By: Zain Sardar

 

اس ابتدا کی سلیقے سے انتہا کرتے
وہ ایک بار ملے تھے تو پھر ملا کرتے

کواڑ گرچہ مقفل تھے اس حویلی کے
مگر فقیر گزرتے رہے صدا کرتے

ہمیں قرینۂ رنجش کہاں میسر ہے
ہم اپنے بس میں جو ہوتے ترا گلا کرتے

تری جفا کا فلک سے نہ تذکرہ چھیڑا
ہنر کی بات کسی کم ہنر سے کیا کرتے

تجھے نہیں ہے ابھی فرصت کرم نہ سہی
تھکے نہیں ہیں مرے ہاتھ بھی دعا کرتے

انہیں شکایت بے ربطی سخن تھی مگر
جھجک رہا تھا میں اظہار مدعا کرتے

چقیں گری تھیں دریچوں پہ چار سو انورؔ
نظر جھکا کے نہ چلتے تو اور کیا کرتے

_______________________________________________________________________

 I hope you all the Guys Like this poetry For More Poetry Collection please Support me.Because in future I provide You anytype of Urdu Poetry. If I do any type of Mistake and Not correct Wording Used Then Comment me in My comment Box Dears In Last I love Urdu Culture and do you like Urdu Tell me. Urdu is the language of love and Blessing. 

Top Post Ad

Below Post Ad