Introduction:
_______________________________________________________________________
غالبؔ نے عشق کو جو دماغی خلل کہا
غالبؔ نے عشق کو جو دماغی خلل کہا
چھوڑیں یہ رمز آپ نہیں جان پائیں گے
_______________________________________________________________________
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں
ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا میں بھ جانتا ہوں
میں جانتا ہوں وہ غصے میں کس حد تک جا سکتی ہے
اپنی زبان پہ قابو رکھو میں اس کو پہچانتا ہوں
سارے مرد ہی اک جیسے ہیں تم نے کیسے کہہ ڈالا
میں بھی تو اک مرد ہوں تم کو خود سے بہتر مانتا ہوں
میں نے اس سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعوٰی نہیں
وہ جس کے بھی ساتھ ہے میں اس کو بھی اپنا مانتا ہوں
_______________________________________________________________________
تیری خشیوں کا سبب یار کوئی اور ہے نہ
تیری خوشیوں کا سبب یار کوئی اور ہے ناں
دوستی مجھ سے اور پیار کوئی اور ہے ناں
جو تیرے حسن پہ مرتے ہیں بہت سے ہوں گے
پر تیرے دل کا طلبگار کوئی اور ہے ناں
تُو میرے اشک نہ دیکھ، اور فقط اتنا بتا
میں نہیں ہوں تیرا دلدار کوئی اور ہے ناں
اس لئیے بھی تجھے دنیا سے الگ چاہتا ہوں
تُو کوئی اور ہے، سنسار کوئی اور ہے ناں
_______________________________________________________________________
تم ثروت کو پڑھتی ہو
تم ثروت کو پڑھتی ہو
کتنی اچھی لڑکی ہو
بات نہیں سنتی ہو کیوں
غزلیں بھی تو سنتی ہو
کیا رشتہ ہے شاموں سے
سورج کی کیا لگتی ہو
لوگ نہیں ڈرتے رب سے
تم لوگوں سے ڈرتی ہو
میں تو جیتا ہوں تم میں
تم کیوں مجھ پہ مرتی ہو
آدم اور سدھر جائے
تم بھی حد ہی کرتی ہو
کس نے جینس کری ممنوع
پہنو اچھی لگتی ہو
_______________________________________________________________________
زرِعشق
جان لینا یہ زرِ عشق کی تابانی ہے
میرے شبدوں میں اگر اپنا سراپا دیکھو
سوچ لینا یہ نمِ ہجر کی حیرانی ہے
کسی دربار کی آمین بھری خلوت میں
عین ممکن ہے تمھیں میرا پتا مل جائے
یہ بھی ہو سکتا ہے میں تم کو ملوں یا نہ ملوں
لیکن اس کھوج میں خود تم کو خدا مل جائے
اپنے ٹیرس سے نظر کرنا کبھی مشرقی سمت
نفس گم کردہ نظاروں میں ملوں گا تم کو
اور شبِ قدر تلاشو تو مجھے بھی تکنا
طاق راتوں کے ستاروں میں ملوں گا تم کو
سخت بزدل ہیں کہ جو عشق میں تھک جاتے ہیں
میں تو ہاں ! تم سے بچھڑ کر بھی تمھارا رہوں گا
سانس بن جاوں گا ہر گھٹتے ہوئے سینے کی
ہر دُکھے دل کے لئے ایک سہارا رہوں گا
کیا کلیمی سے بھلا عشق کلامی کم ہے ؟
بادشاہی نہ سہی ! دل کی غلامی کم ہے ؟
کیا یہ کم ہے؟ کہ تمھیں دیکھوں، دِکھے کُل دنیا
کیا یہ کم ہے ؟ کہ لکھوں عشق ! پڑھے کل دنیا
یارِ من عشق طلب عشق میں سب عشق سند
جذبِ من عشق ازل عشق ابد عشق احد !
عشق دربار بھی سُن کار بھی سرکار بھی عشق
عشق تلوار بھی آزار بھی دلدار بھی عشق
عشق ہو جائے تو کچھ اور کہاں ہوتا ہے !
کچھ نہیں ہوتا وہاں ! عشق جہاں ہوتا ہے !
_______________________________________________________________________
اس طرح سے نہ آزماؤ مجھے
اس طرح سے نہ آزماؤ مجھے
اُس کی تصویر مت دکھاؤ مجھے
عین ممکن ہے میں پلٹ آؤں
اُس کی آواز میں بلاؤ مجھے
دوستوں کو نہ آگ لگ جائے
اپنی ڈی پی پہ مت لگاؤ مجھے
میں نے بولا تھا یاد مت آنا
جھوٹ بولا تھا یاد آؤ مجھے
_______________________________________________________________________
کوئی شہر تھا جس کی ایک گلی
مِری ہر آہٹ پہچانتی تھی
مِرے نام کا اک دروازہ تھا
اک کھڑکی مجھ کو جانتی تھی
مِرے باپ کی شب بیداریوں پر
کئی فجریں پہرہ دیتی تھیں
مِرا شعر نہیں سنتا تھا کوئی
مِری امّاں مجھ کو مانتی تھی
_______________________________________________________________________
I
hope you all the Guys Like this poetry For More Poetry Collection
please Support me.Because in future I provide You anytype of Urdu
Poetry. If I do any type of Mistake and Not correct Wording Used Then
Comment me in My comment Box Dears In Last I love Urdu Culture and do
you like Urdu Tell me. Urdu is the language of love and Blessing.
.png)
Social Plugin