Introduction:
_______________________________________________________________________
اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے
اگر خلاف ہیں، ہونے دو، جان تھوڑی ہے
یہ سب دھواں ہے، کوئی آسمان تھوڑی ہے
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن
ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے
ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے
ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے
جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے
_______________________________________________________________________
اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے
اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے
چراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگے
ترقی کر گئے بیماریوں کے سوداگر
یہ سب مریض ہیں جو اب دوائیں کرنے لگے
لہو لہان پڑا تھا زمیں پر اک سورج
پرندے اپنے پروں سے ہوائیں کرنے لگے
زمیں پر آ گئے آنکھوں سے ٹوٹ کر آنسو
بری خبر ہے فرشتے خطائیں کرنے لگے
جھلس رہے ہیں یہاں چھاؤں بانٹنے والے
وہ دھوپ ہے کہ شجر التجائیں کرنے لگے
عجیب رنگ تھا مجلس کا خوب محفل تھی
سفید پوش اٹھے کائیں کائیں کرنے لگے
_______________________________________________________________________
سب کو رسوا باری باری کیا کرو
سب کو رسوا باری باری کیا کرو
ہر موسم میں فتوے جاری کیا کرو
راتوں کا نیندوں سے رشتہ ٹوٹ چکا
اپنے گھر کی پہرے داری کیا کرو
قطرہ قطرہ شبنم گن کر کیا ہوگا
دریاؤں کی دعوے داری کیا کرو
روز قصیدے لکھو گونگے بہروں کے
فرصت ہو تو یہ بے گاری کیا کرو
شب بھر آنے والے دن کے خواب بنو
دن بھر فکر شب بے داری کیا کرو
چاند زیادہ روشن ہے تو رہنے دو
جگنو بھیا جی مت بھاری کیا کرو
جب جی چاہے موت بچھا دو بستی میں
لیکن باتیں پیاری پیاری کیا کرو
رات بدن دریا میں روز اترتی ہے
اس کشتی میں خوب سواری کیا کرو
روز وہی اک کوشش زندہ رہنے کی
مرنے کی بھی کچھ تیاری کیا کرو
خواب لپیٹے سوتے رہنا ٹھیک نہیں
فرصت ہو تو شب بے داری کیا کرو
کاغذ کو سب سونپ دیا یہ ٹھیک نہیں
شعر کبھی خود پر بھی طاری کیا کرو
_______________________________________________________________________
نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا
نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا
ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا
میں جانتا تھا کہ زہریلا سانپ بن بن کر
ترا خلوص مری آستیں سے نکلے گا
اسی گلی میں وہ بھوکا فقیر رہتا تھا
تلاش کیجے خزانہ یہیں سے نکلے گا
بزرگ کہتے تھے اک وقت آئے گا جس دن
جہاں پہ ڈوبے گا سورج وہیں سے نکلے گا
گزشتہ سال کے زخمو ہرے بھرے رہنا
جلوس اب کے برس بھی یہیں سے نکلے گا
_______________________________________________________________________
سوال گھر نہیں بنیاد پر اٹھایا ہے
سوال گھر نہیں بنیاد پر اٹھایا ہے
ہمارے پاؤں کی مٹی نے سر اٹھایا ہے
ہمیشہ سر پہ رہی اک چٹان رشتوں کی
یہ بوجھ وہ ہے جسے عمر بھر اٹھایا ہے
مری غلیل کے پتھر کا کارنامہ تھا
مگر یہ کون ہے جس نے ثمر اٹھایا ہے
یہی زمیں میں دبائے گا ایک دن ہم کو
یہ آسمان جسے دوش پر اٹھایا ہے
بلندیوں کو پتہ چل گیا کہ پھر میں نے
ہوا کا ٹوٹا ہوا ایک پر اٹھایا ہے
مہا بلی سے بغاوت بہت ضروری ہے
قدم یہ ہم نے سمجھ سوچ کر اٹھایا ہے
_______________________________________________________________________
I
hope you all the Guys Like this poetry For More Poetry Collection
please Support me.Because in future I provide You anytype of Urdu
Poetry. If I do any type of Mistake and Not correct Wording Used Then
Comment me in My comment Box Dears In Last I love Urdu Culture and do
you like Urdu Tell me. Urdu is the language of love and Blessing.
(2).png)
Social Plugin