Type Here to Get Search Results !

Tahzeeb Hafi Best Poetry, Ghazals

 

Introduction:

 Hello Dears Welcome to my Website. In future you find every type of Urdu Poetry in Here. Our website aim is that Provide you Every information about Urdu Language So to become successful Our Aim Before the Urdu Poetry We provide you Basic Information and Facts about Urdu.After these Information You can Find our Poetry Collection.I hope You All the Peoples Like My Poetry Collection. Urdu is the language of love .So Fell the Poetry and engoy With Me. For any type of Doubt Comment.In future if you Peoples Support me Them I  Provide live Chat option To Chat me Live.Any type of Doubt About and if you want Give me Suggestions About which type of Poetry do you want so comment me.   

_______________________________________________________________________ 

 

Tahzeeb Hafi


یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے

 
 
 Poet: تہزیب حافی By: ZainSardar
 

یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے
میں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہے

میں اب کے سال پرندوں کا دن مناؤں گا
مری قریب کے جنگل سے بات ہو گئی ہے

بچھڑ کے تجھ سے نہ خوش رہ سکوں گا سوچا تھا
تری جدائی ہی وجہ نشاط ہو گئی ہے

بدن میں ایک طرف دن طلوع میں نے کیا
بدن کے دوسرے حصے میں رات ہو گئی ہے

میں جنگلوں کی طرف چل پڑا ہوں چھوڑ کے گھر
یہ کیا کہ گھر کی اداسی بھی ساتھ ہو گئی ہے

رہے گا یاد مدینے سے واپسی کا سفر
میں نظم لکھنے لگا تھا کہ نعت ہو گئی ہے

_______________________________________________________________________

 

جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا

 
 
 Poet: تہزیب حافی By: ZainSardar
 
 
 جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا
کمرا رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا

پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے
میں جنگل میں پانی لایا کرتا تھا

تھک جاتا تھا بادل سایہ کرتے کرتے
اور پھر میں بادل پہ سایہ کرتا تھا

بیٹھا رہتا تھا ساحل پہ سارا دن
دریا مجھ سے جان چھڑایا کرتا تھا

بنت صحرا روٹھا کرتی تھی مجھ سے
میں صحرا سے ریت چرایا کرتا تھا

_______________________________________________________________________

 

پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گا

 
 
 Poet: تہزیب حافی By: ZainSardar
 

پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گا
میں بھیگ جاؤں گا چھتری نہیں بناؤں گا

اگر خدا نے بنانے کا اختیار دیا
علم بناؤں گا برچھی نہیں بناؤں گا

فریب دے کے ترا جسم جیت لوں لیکن
میں پیڑ کاٹ کے کشتی نہیں بناؤں گا

گلی سے کوئی بھی گزرے تو چونک اٹھتا ہوں
نئے مکان میں کھڑکی نہیں بناؤں گا

میں دشمنوں سے اگر جنگ جیت بھی جاؤں
تو ان کی عورتیں قیدی نہیں بناؤں گا

تمہیں پتا تو چلے بے زبان چیز کا دکھ
میں اب چراغ کی لو ہی نہیں بناؤں گا

میں ایک فلم بناؤں گا اپنے ثروتؔ پر
اور اس میں ریل کی پٹری نہیں بناؤں گا

_______________________________________________________________________

 

میرے دل میں یہ تیرے سوا کون ہے

 
 
 Poet: تہزیب حافی By: ZainSardar
 

میرے دل میں یہ تیرے سوا کون ہے
تونہیں ہے تو تیری جگہ کون ہے؟

کیا کہوں دین و دُنیا سے دِل اُٹھ گیا
میرے پہلوسے اُٹھ کے گیا کون ہے

ہم مُحبت میں ہارے ہوئے لوگ ہیں
اور مُحبت میں جیتا ہوا کون ہے؟

تو نے جاتے ہوئے یہ بتایا نہیں
میں تیرا کون ہوں تو میرا کون ہے؟

_______________________________________________________________________

 

مری آنکھ سے ترا غم چھلک تو نہیں گیا

 
 
 Poet: تہزیب حافی By: ZainSardar
 

مری آنکھ سے ترا غم چھلک تو نہیں گیا
تجھے ڈھونڈھ کر کہیں میں بھٹک تو نہیں گیا

تری بدعا کا اثر ہوا بھی تو فائدہ
مرے ماند پڑنے سے تُو چمک تو نہیں گیا

بڑا پُر فریب ہے شہد و شِیر کا ذائقہ
مگر ان لبوں سے ترا نمک تو نہیں گیا

ترے جسم سے مری گفتگو رہی رات بھر
میں کہیں نشے میں زیادہ بَک تو نہیں گیا

یہ جو اتنے پیار سے دیکھتا ہے تُو آج کل
مرے دوست تُو کہیں مجھ سے تھک تو نہیں گیا

_______________________________________________________________________

 

ذہن سے یادوں کے لشکر جا چُکے

 
 
 Poet: تہزیب حافی By: ZainSardar
 
 
 ذہن سے یادوں کے لشکر جا چُکے
وہ میری محفل سے اُٹھ کر جا چُکے

میرا دِل بھی جیسے پاکستان ہے
سب حکومت کر کے باہر جا چُکے

_______________________________________________________________________

 

تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سے

 
 
 Poet: تہزیب حافی By: ZainSardar
 
 

تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سے
تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی

ڈر رہا تھا کہ کہیں زخم نہ بھر جائیں میرے
اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی

اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تیرے چہرے پر
تو کسی اور ہی ستارے کی چمک لائی تھی

تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مونثِ جاں
کیا کروں میں کہ تو بولی ہی بہت کم مجھ سے

تیری چپ سے ہی یہ محسوس کیا تھا میں نے
جیت جائے گا کسی روز تیرا غم مجھ سے

شہر آوازیں لگاتا تھا مگر تو چپ تھی
یہ تعلق مجھے کھاتا تھا مگر تو چپ تھی

وہی انجام تھا عشق کا جو آغاز سے ہے
تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھ کھونا تھا

چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے
یہی ہوتا تھا یہی ہو گا یہی ہونا تھا

پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے
اور میری آنکھ میں آنسو بھی نہیں ہوتے تھے

میں نے اندازے لگائے کہ سبب کیا ہو گا
پر میرے تیر ترازو ہی نہیں ہوتے تھے

جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے
پھر وہ خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا میں

جس کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل میں
میری قسمت میں ہی جب خالی جگہ لکھی تھی

تجھ سے شکوہ بھی اگر کرتا تو کیسے کرتا ۔۔
میں وہ سبزہ تھا جسے روند دیا جاتا ہے

میں وہ جنگل تھا جسے کاٹ دیا جاتا ہے
میں وہ در تھا جسے دستک کی کمی کھاتی ہے

میں وہ منزل تھا جہاں ٹوٹی سڑک جاتی ہے
میں وہ گھر تھا جسے آباد نہیں کرتا کوئی

میں تو وہ تھا کہ جسے یاد نہیں کرتا کوئی
خیر اس بات کو تو چھوڑ بتا کیسی ہے؟؟

تو نے چاہا تھا جسے وہ تیرے نزدیک تو ہے

کون سے غم نے تجھے چاٹ لیا اندر سے
آجکل پھر تو چپ رہتی ہے سب ٹھیک تو ہے

_______________________________________________________________________

 I hope you all the Guys Like this poetry For More Poetry Collection please Support me.Because in future I provide You anytype of Urdu Poetry. If I do any type of Mistake and Not correct Wording Used Then Comment me in My comment Box Dears In Last I love Urdu Culture and do you like Urdu Tell me. Urdu is the language of love and Blessing.


Top Post Ad

Below Post Ad