Introduction:
یارو، کچھ تو حال سناو
یارو،کچھ تو حال سناو
اُسکی قیامت بانہوں کا
وہ جو سمٹتے ہونگے اُن میں
وہ تو مر جاتے ہونگے
_______________________________________________________________________
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ پیماں
بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں
کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو
کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی
میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو
تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ابھی
کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو
عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو
عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو
اک اور زخم کھا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے عارض و لب کی جدائی کے دن ہیں
میں جام منہ سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمہارا حسن تمہارے خیال کا چہرہ
شباہتوں میں چھپا لوں اگر اجازت ہو
تمہیں سے ہے مرے ہر خوابِ شوق کا رشتہ
اک اور خواب کما لوں اگر اجازت ہو
تھکا دیا ہے تمہارے فراق نے مجھ کو
کہیں میں خود کو گرا لوں اگر اجازت ہو
برائے نام بنامِ شبِ وصال یہاں
شبِ فراق منا لوں اگر اجازت ہو
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ پیماں
بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں
کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو
کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی
میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو
تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ابھی
کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو
_______________________________________________________________________
عشق سمجھے تھے جس کو وہ شاید
عشق سمجھے تھے جس کو وہ شاید
تھا بس اک نارسائی کا رشتہ
میرے اور اُس کے درمیاں نکلا
عمر بھر کی جدائی کا رشتہ
______________________________________________________________________
ہم نے اے سر زمیں خواب و خیال
ہم نے اے سر زمیں خواب و خیال
تجھ سے رکھا ہے شوق کو پر حال
ہم نے تیری امید گاہوں میں
کی ہے اپنے مثالیوں کی تلاش
دل کے رنگِ خیال بندی کو
تو بھی اک بار دیکھ لے اے کاش
ختنِ جاں! ترے غزالوں کو
ہم نے جانِ غزل بنایا ہے
ہم نے دکھ سہہ کے تیرے لمحوں کو
جاودانِ غزل بنایا ہے
ذکر سے ہم ترے حسینوں کے
شوخ گفتارو خوش کلام ہوئے
تیری گلیوں میں ہو کے ہم بدنام
کتنے شہروں میں نیک نام ہوئے
حسن فردا کے خواب دیکھے ہیں
شوق نے تیری خواب گاہوں میں
ہم نے اپنا سراغ پایا ہے
تیری گلیوں میں تیری راہوں میں
تیری راتیں ہمارے خوابوں سے
اور بھی کچھ سہانیاں ہوں گی
ہم جو باتیں جنوں میں بکتے ہیں
دیکھنا جاودانیاں ہوں گی
ہم ہیں وہ ماجرا طلب جن کی
داستانیں زبانیاں ہوں گی
تیری محفل میں ہم نہیں ہوں گے
پر ہماری کہانیاں ہوں گی
جو تھے دشمن تری امنگوں کے
کب انہیں بے گرفت چھوڑا ہے
ہم نے اپنے درشت لہجے سے
آمروں کا غرور توڑا ہے
ہم تو خاطر میں بھی نہیں لاتے
اہلِ دولت کو شہر یاروں کو
ہم نوا گر ترے عوام کے ہیں
دوست رکھتے ہیں تیرے پیاروں کو
تو ہے کاوش کا جن کی گلدستہ
ان کا نام ان کی نامداری ہو
تیرے شہروں میں اور دیاروں میں
حکم محنت کشوں کا جاری ہو
یہ بڑی سازگار مہلت ہے
یہ زمانہ بہت غنیمت ہے
شوق سے ولولے طلب کر لیں
جو نہ اب تک کیا وہ کر لیں
خوش بدن! پیرہن ہو سرخ ترا
دلبرا! بانکپن ہو سرخ ترا
ہم بھی رنگیں ہوں پر توِ گل سے
جوشِ گل سے چمن ہو سرخ ترا
تیرے صحرا بھی پر بہار رہیں
غنچہ خیز و شگوفہ کار رہیں
دل بہ دل ربطِ جاں رہے تجھ سے
صف بہ صف تیرے جاں نثار رہیں
ہر فسانہ بہم کہا جائے
میں جو بولوں تو ہم کہا جائے
I
hope you all the Guys Like this poetry For More Poetry Collection
please Support me.Because in future I provide You anytype of Urdu
Poetry. If I do any type of Mistake and Not correct Wording Used Then
Comment me in My comment Box Dears In Last I love Urdu Culture and do
you like Urdu Tell me. Urdu is the language of love and Blessing.
(2).png)
Social Plugin