Type Here to Get Search Results !

Mirza Ghalib Poetry, Best Shayari

 

Introduction:

 Hello Dears Welcome to my Website. In future you find every type of Urdu Poetry in Here. Our website aim is that Provide you Every information about Urdu Language So to become successful Our Aim Before the Urdu Poetry We provide you Basic Information and Facts about Urdu.After these Information You can Find our Poetry Collection.I hope You All the Peoples Like My Poetry Collection. Urdu is the language of love .So Fell the Poetry and Engoy With Me. For any type of Doubt Comment.In future if you Peoples Support me Them I  Provide live Chat option To Chat me Live.Any type of Doubt About and if you want Give me Suggestions About which type of Poetry do you want so comment me.   

_______________________________________________________________________

 
Mirza Galib

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

 
 
Poet: Mirza Ghalib By: zain Sardar

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے

یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
وگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے

چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے

جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
سوائے بادۂ گلفام مشک بو کیا ہے

پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے

رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے

ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

_______________________________________________________________________

 


کوئی امید بر نہیں آتی

 
 
Poet: Mirza Ghalib By: zain Sardar
 

کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی

موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی

کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی

داغ دل گر نظر نہیں آتا
بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی

کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی

_______________________________________________________________________



ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

 
 
Poet: Mirza Ghalib By: zain Sardar
 

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے

مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے

ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے

ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

_______________________________________________________________________


 

غالب کی شاعری

 
 
Poet: Mirza Ghalib By: zain Sardar
 
 

دکھ دے کر سوال کرتے ہو
تم بھی غالب کمال کرتے ہو

دیکھ کر پوچھ لیا حال میرا
چلو کچھ تو میرا خیال کرتے ہو

شہرِ دل میں یہ اداسیاں کیسی
یہ بھی مجھ سے سوال کرتے ہو

مرنا چاہیں تو مر نہیں سکتے
تم بھی جینا محال کرتے ہو

اب کس کس کی مثال دوں تم کو
ہر ستم بے مثال کرتے ہو

_______________________________________________________________________

 

کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر

 

 
Poet: Mirza Ghalib By: zain Sardar
 
 

کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر

آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
سرگرم نالہ ہائے شرربار دیکھ کر

کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا
رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر

آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر

ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق
لرزے ہے موج مے تری رفتار دیکھ کر

واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریص لذت آزار دیکھ کر

بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سخن کے ساتھ
لیکن عیار طبع خریدار دیکھ کر

زنار باندھ سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال
رہ رو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر

ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر

کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے
طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر

گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر
دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر

سر پھوڑنا وہ غالبؔ شوریدہ حال کا
یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر

_______________________________________________________________________


 

مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت

 

 
Poet: Mirza Ghalib By: zain Sardar
 
 

مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہے
بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں

اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں
ستم اتنا تو نہ کیجے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا
شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں

تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں
موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں

ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ
کیا تصور ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں

_______________________________________________________________________

 I hope you all the Guys Like this poetry For More Poetry Collection please Support me.Because in future I provide You anytype of Urdu Poetry. If I do any type of Mistake and Not correct Wording Used Then Comment me in My comment Box Dears In Last I love Urdu Culture and do you like Urdu Tell me. Urdu is the language of love and Blessing.

 

Top Post Ad

Below Post Ad