Type Here to Get Search Results !

John elia urdu poetry sayad collection by zain sardar

Introduction:

 Hello Dears Welcome to my Website. In future you find every type of Urdu Poetry in Here. Our website aim is that Provide you Every information about Urdu Language So to become successful Our Aim Before the Urdu Poetry We provide you Basic Information and Facts about Urdu.After these Information You can Find our Poetry Collection.I hope You All the Peoples Like My Poetry Collection. Urdu is the language of love .So Fell the Poetry and Engoy With Me. For any type of Doubt Comment.In future if you Peoples Support me Them I  Provide live Chat option To Chat me Live.Any type of Doubt About and if you want Give me Suggestions About which type of Poetry do you want so comment me.   
_______________________________________________________________________
 
John Elia

رمز  

تم جب آؤ گی ، تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے 
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں 
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں 
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں 
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ھے مجھ پر 
ان میں اک رمز ھے جس رمز کا مارا ہوا ذہن 
مژدہ عشرتِ انجام نہیں پا سکتا 
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا  
  

شاید   

میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوں 
شاید، جانِ جاں شاید 
کہ اب تم مجھ کو پہلے سے زیادہ یاد آتی ہو 
ہے دل غمگیں، بہت غمگیں 
کہ اب تم یاد دل وارانہ آتی ہو 
شمیم دور ماندہ ہو 
بہت رنجیدہ ہو مجھ سے 
مگر پھر بھی 
مشامِ جاں میں میرے آشتی مندانہ آتی ہو 
جدائی میں بلا کا التفاتِ محرمانہ ہے 
قیامت کی خبر گیری ہے 
بےحد ناز برداری کا عالم ہے 
تمہارے رنگ مجھ میں اور گہرے ہوتے جاتے ہیں 
میں ڈرتا ہوں 
میرے احساس کے اس خواب کا انجام کیا ہوگا 
یہ میرے اندرونِ ذات کے تاراج گر 
جذبوں کے بیری وقت کی سازش نہ ہو کوئی 
تمہارے اس طرح ہر لمحہ یاد آنے سے 
دل سہما ہوا سا ہے 
تو پھر تم کم ہی یاد آؤ 
متاعِ دل، متاعِ جاں تو پھر تم کم ہی یاد آؤ 
بہت کچھ بہہ گیا ہے سیلِ ماہ و سال میں اب تک 
سبھی کچھ تو نہ بہہ جائے 
کہ میرے پاس رہ بھی کیا گیا ہے 
کچھ تو رہ جائے  
نوائے درونی  
نیلگوں حُزن کے اکناف میں گم ہوتے ہوئے 
مہرباں یاد کے اطراف میں گم ہوتے ہوئے 
بے طرف شام کے ابہام کی سرسبزی میں 
جو تنفس سے خموشی کے سنا یے میں نے 
ایسا نغمہ کسی آواز کے جنگل میں نہیں   

شہرِ آشوب  

گزر گئے پسِ در کی اشارتوں کے وہ دن 
کہ رقص کرتے تھے مے خوار رنگ کھیلتے تھے 
نہ محتسب کی تھی پروا نہ شہرِ دار کی تھی 
ہم اہلِ دل سرِ بازار رنگ کھیلتے تھے 
غرورِ جبہ و دستار کا زمانہ ہے 
نشاطِ فکر و بساطِ ہنر ہوئی برباد 
فقیہ و مفتی و واعظ پہ حرف گیر ہو کون؟ 
یہ ہیں ملائکہ اور شہر جنتِ شداد 
ملازمانِ حرم نے وہ تنگیاں کی ہیں 
فضائیں ہی نہ رہیں رقصِ رنگ و بو کے لیے 
یہ انتظام تو دیکھو خزاں پرستوں کا 
بچھائی جاتی ہیں سنگینیاں نمو کے لیے 
اسی ہوس میں ہیں ہر دم یہ دشمنانِ جمال 
جو سوئے رنگ اٹھے اس نظر کو گُل کر دیں 
جو بس چلے کہیں ان کا تو یہ فضا بیزار 
شفق کا رنگ بجھا دیں سحر کو گُل کر دیں 
ہوئی ہے جانبِ محراب سے وہ بارشِ سنگ 
کہ عافیت خمِ ابرو کی ہے بہت دشوار 
ستم کیا ہے عجب منجنیقِ منبر نے 
حریمِ دل کی سلامت نہیں رہی دیوار 
یہ عہد وہ ہے کہ دانشورانِ عہد پہ بھی 
منافقت کی شبیہوں کا خوف طاری ہے 
نمازِ خوف کے دن ہیں کہ ان دنوں یارو 
قلندروں پہ فقیہوں کا خوف طاری ہے 
یہ ہیں وہ تیرہ دلانِ قلمروِ تاریخ 
جو روشنائی ءِ دانش کا خون کرتے رہے 
یہی تو ہیں جو حکیموں کی حکمتوں کے خلاف 
ہر اک دور میں حاکم کے کان بھرتے رہے 
ہیں ظلمتوں کی مربی طبیعتیں ان کی 
کبھی یہ روشنیِ طبع کو نہیں مانے 
ہے روشنی کا انہیں ایک ہی نظارہ پسند 
کہ جشنِ فتح منے اور جلیں کتب خانے 
دیا ہے کام انہیں شب کے سر پرستوں نے 
سپیدہِ سحری کو سیاہ کرنے کا 
ملا ہے عہدہ کلیسائے عرب سے ان کو 
شعورِ مشرقِ نو کو تباہ کرنے کا 
گزشتہ عہد گزرنے ہی میں نہیں آتا 
یہ حادثہ بھی لکھو معجزوں کے خانے میں 
جو رد ہوئے تھے جہاں میں کئی صدی پہلے 
وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں اس زمانے میں  
اجنبی شام  
دھند چھائی ہوئی ہے جھیلوں پر 
اُڑ رہے ہیں پرند ٹیلوں پر 
سب کا رخ ہے نشیمنوں کی طرف  
بستیوں کی طرف، بنوں کی طرف 
اپنے گلوں کو لے کے چروا ہے 
سرحدی بستیوں میں جا پہنچے 
دل ناکام! میں کہاں جاؤں؟ 
اجنبی شام! میں کہاں جاؤں؟ 
وصال  
وہ میرا خیال تھی، سو وہ تھی 
میں اس کا خیال تھا، سو میں تھا 
اب دونوں خیال مر چکے ہیں  

اعلانِ رنگ  

سفید پرچم، سفید پرچم 
یہ ان کا پرچم تھا جو شکاگو کے چوک میں جمع ہو رہے تھے 
جو نرم لہجوں میں اپنی محرومیوں کی شدت سمو رہے تھے 
کہ ہم بھی حقدارِ زندگیِ ہیں مگر دل افگارِ زندگی ہیں 
ہمارے دل میں بھی کچھ امنگیں ہیں ہم بھی کچھ خواب دیکھتے ہیں 
خوشی ہی آنکھیں نہیں سجاتی ہیں غم بھی کچھ خواب دیکھتے ہیں 
یکم مئی کی سحر نے جب اپنا نفسِ مضموں رقم کیا تھا 
بلا نصیبوں کو زندگی کی امنگ نے ہم قدم کیا تھا 
اور اک جریدہ نگارِِ صبحِ شعورِ محنت نے آج کے دن 
بنامِ محنت کشاں یہ پیغامِ حق سپردِ قلم کیا تھا 
الم نصیبو بہادری سے ستم نصیبو بہادری سے 
صفوں کو اپنی درست کر لو کہ جنگ آغاز ہو چکی ہے 
تمہارے کتنے ہی باہنر ہاتھ ہیں جو بےروزگار ہیں آج 
تمہارے کتنے نڈھال ڈھانچے گھروں میں بے انتظار ہیں آج 
نظامِ دولت کے پنجہ ہاے درشت و خونیں شروع ہی سے 
فریبِ قانون و امن کی آڑ میں چھپے ہیں ، چھپے رہے ہیں 
گروہِ محنت کشاں ہو تیری زبان پر اب بس ایک نعرہ 
مفاہمت ختم ہو چکی ہے ، مفاہمت ختم ہو چکی ہے 
ستمگروں سے ستم کشوں کی معاملت ختم ہو چکی ہے 
یکم مئی کا حسابِ عظمت تو آنے والے ہی کر سکیں گے 
ہجوم گنجان ہو گیا تھا عمل کا اعلان ہو گیا تھا 
تمام محرومیاں ہم آواز ہو گئیں تھیں کہ ہم یہاں ہیں 
ہمارے سینوں میں ہیں خراشیں ہمارے جسموں پہ دھجیاں ہیں 
ہمیں مشینوں کا رزق ٹھہرا کے رزق چھینا گیا ہمارا 
ہماری بخشش پہ پلنے والو ہمارا حصہ تباہیاں ہیں 
مگر یہ اک خواب تھا وہ اک خواب جس کی تعبیر خونچکاں تھی 
رقم جو کی تھی قلم نے سرمایے کے وہ تحریر خونچکاں تھی 
سفید پرچم نے خونِ محنت کو اپنے سینے پہ مل لیا تھا 
یہ وقت کی سربلند تدبیر تھی یہ تدبیر خونچکاں تھی 
دیارِ تاریخ کی فضائوں میں سرخ پرچم ابھر رہا تھا 
یہ زندگی کی جلیل تنویر تھی یہ تنویر خونچکاں تھی 
یکم مئی خون شدہ امنگوں کی حق طلب برہمی کا دن ہے 
یکم مئی زندگی کے زخموں کی سرخرو شاعری کا دن ہے 
یکم مئی اپنے خونِ ناحق کی سرخ پیغمبری کا دن ہے 
یکم مئی زندگی کا اعلانِ رنگ ہے زندگی کا دن ہے 
یہ زندگی خون کا سفر ہے اور ابتلا اس کی رہگزر ہے 
جو خون اس سیلِ خون کی موجوں کو تند کر دے وہ نامور ہے 
یہ خون ہے خون سر زندہ یہ خونِ زندہ ہے خونِ زندہ 
وہ خون پرچم فراز ہوگا جو خونِ زندہ کا ہمسفر ہے 
یہ خوں ہے سرنام یعنی سرنامئہ کتابِ امم یہ خوں ہے 
ادب گہِ اجتہادِ تاریخ میں نصابِ امم یہ خوں ہے 
صلیبِ اعلانِ حرفِ حق کا خطیب بھی یہ خطاب بھی یہ 
یہ اپنا ناشر ہے اور منشورِ انقلابِ امم یہ خوں ہے 
یہ خون ہی خیرِ جسم و جاں ہے اس امتحاں گاہِ زندگی میں 
جہاں کہیں ظلم طعنہ زن ہو وہاں جوابِ امم یہ خوں ہے 
یہ خون ہی خواب دیکھتا ہےشکست کی شب بھی ، صبحِ نو کے 
پھر اپنی ہی گردشوں میں تعبیر کوشِ خوابِ امم یہ خوں ہے 
یہ خوں اٹھاتا ہے غاصبوں کے خلاف طوفاں بغاواتوں کے 
ہوں عام جب زندگی کی خوشیاں تو آب و تابِ امم یہ خوں ہے 
جو ظلم سے دو بدو ہیں ان کی صفوں کو قوت پلائو، آئو 
اسی طرح خونِ زندہءِ ہر زماں، جہاں اقتدار ہوگا 
نفاق اور افتراق ہی میں پناہ لیتے رہے ہیں ظالم 
جو ظالموں کو پناہ دے گا وہ ظالموں میں شمار ہوگا  
_______________________________________________________________________

I hope you all the Guys Like this poetry For More Poetry Collection please Support me.Because in future I provide You anytype of Urdu Poetry. If I do any type of Mistake and Not correct Wording Used Then Comment me in My comment Box Dears In Last I love Urdu Culture and do you like Urdu Tell me. Urdu is the language of love and Blessing. 


Top Post Ad

Below Post Ad